چھتیس گڑھ، 05 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کی جانب سے ایل او سی پر فائرنگ میں شہید ہوئے 23 سالہ کیپٹن کپل کنڈو کی شہادت کو پورا ملک سلام کر رہا ہے۔پاکستان کی فائرنگ میں کپیل کنڈو کے علاوہ تین دیگر فوجی بھی شہید ہوئے۔ پورا ملک پاکستان کو سخت جواب دینے کی بات کررہاہے۔دوسری طرف شہید کیپٹن کپل کی ماں نے کہا ہے کہ انہیں اپنے بیٹے پر بہت فخر ہے، اگر ان کا ایک اور بیٹا ہوتا تو وہ اسے بھی فوج میں ہی بھیجتیں۔ بات کرتے ہوئے شہید کیپٹن کنڈو کی ماں سنیتا کنڈو نے بتایا کہ ہم اسے آئی آئی ٹی میں بھیجنا چاہتے تھے، لیکن اس نے این ڈی اے کی تیاری کی، وہ منتخب بھی ہوگیا، لہذا ہم نے اسے کبھی نہیں روکا۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں کا ہر بچہ آج کپل بننا چاہتا ہے، وہ یہاں کے نوجوانوں کے لئے ایک مثال بنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ خاندان کا خیال رکھتا تھا، مجھے کبھی دکھ نہ پہنچے اس لئے فوج سے منسلک چیزیں مجھے نہیں بتاتا تھا۔ ماں نے کہا کہ اپنے کام سے جڑی باتیں صرف اپنی بہنوں کوہی بتاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بیٹے پر فخرہے، بس بھگوان اسے اورعمردے دیتاتواچھاتھا۔23 سال سے بھی کم عمر میں ملک کے لئے سب سے بڑی قربانی دینے والے کیپٹن کپل کنڈو کا خیال تھا کہ زندگی لمبی نہیں بڑی ہونی چاہئے۔ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں آنند فلم کایہ مشہور مکالمہ لکھاتھا۔ ان کا فیس بک اسٹیٹس تھا، ’’زندگی لمبی نہیں، بڑی ہونی چاہئے‘‘۔ 23 سال میں ہی کیپٹن واقعی بڑی زندگی جی گئے ،اتوارکو راجوری میں سرحد پار سے فائرنگ میں کیپٹن کنڈو اور تین جوان شہید ہو گئے تھے۔